واٹس ایپ میں ڈارک موڈ کو کیسے فعال کیا جائے؟

طویل انتظار کے بعد آخر کار میسجنگ ایپ اپنے صارفین کے لیے ڈارک موڈ لانچ کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اگرچہ واٹس ایپ میں ڈارک موڈ کو شامل کرنے میں میسجنگ ایپ نے کافی وقت لیا ہے، لیکن اس سے پہلے یوٹیوب سمیت دیگر تمام کمپنیاں ڈارک موڈ کافی ٹائم پہلے لانچ کرنے میں کامیاب ہوگئیں تھیں۔ تاہم، کمپنی نے اس سے پہلے اعلان کیا تھا کہ کمپنی کی طرف سے لانچ کیا گیا ڈارک موڈ اصل میں ڈارک ہوگا اسی لیے میسیجنگ ایپ کی طرف ڈارک موڈ کو لانچ کرنے میں تاخیر ہوئی۔

وٹس ایپ کے اس مقامی ڈارک موڈ کو ڈارک اس وقت کہا جاتا ہے جب ہم تھیم سلیکشن انٹرفیس میں اسے سرچ کرتے ہیں۔تو میسجنگ ایپ کا پورا یو آئی ڈارک گرین بدل جاتا ہے۔ ہوم اسکرین اور میسیجنگ مینو اب گہرے رنگ میں ڈھل جاتے ہیں ۔ جب کہ پس منظر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم ڈارک موڈ کو فعال کرنے کی تفصیلات میں جائیں، یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ ڈارک موڈ صرف بیٹا ٹیسٹرز کے لیے دستیاب ہے اور یہ ابھی تک اسٹیبل ورژن(stable version) کے لیے لانچ نہیں ہوا ہے۔

واٹس ایپ میں ڈارک موڈ کو کیسے فعال کیا جائے؟

جب واٹس ایپ میں ڈارک تھیم کو فعال کرنے کی بات آتی تو وہاں کوئی بھی راکٹ سائنس نہیں ہے ۔ اپنی ایپ کو ڈارک موڈ میں تبدیل کرنے k لیے درج ذیل مراحل پر عمل کریں:

  • سب سے پہلے، آپ کا تازہ ترین WhatsApp بیٹا اپ ڈیٹ ہونا چاہئے.
  • بیٹا اپ ڈیٹ ڈاؤن لوڈ کریں اور پھر ایپ کھولیں۔
  • جب آپ ایپ کھولتے ہیں تو ایپ کے اوپری دائیں کونے میں تین ڈاٹ مینو آئیکون پر کلک کریں۔
  • ڈراپ ڈاؤن مینو سے سیٹنگ پر ٹیپ کریں۔
  • اب جب آپ کو ترتیبات کے صفحے پر ہدایت کی جاتی ہے تو، چیٹس اور پھر تھیم پر کلک کریں۔
  • جہاں سے آپ تھیم کا انتخاب کر سکتے ہیں وہاں سے ایک نئی ونڈو کھل جائے گی۔
  • ظاہر ہونے والی کھڑکی میں اندھیرے پر تھپتھپائیں۔ اس سے ایپ بھر میں ڈارک موڈ انٹرفیس فعال ہوگا۔
  • پھر اپکے سامنے جو نئ ونڈو کھلے گی وہاں آپ ڈارک آپشن کا انتخاب کریں
  • آپ سسٹم کی ڈیفالٹ سیٹنگ کا بھی انتخاب کرسکتے ہیں تاکہ صرف روشنی کے مطابق ڈارک اور لائٹ موڈ کے درمیان خود بخود سوئچ ہوجائے۔

یہ سب سے اچھی بات ہے کہ واٹس ایپ نے اپنی صارفین کے لیے ڈارک موڈ کا فیچر متعارف کروایا میسیجنگ ایپ میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپ واٹس ایپ ہے ڈارک موڈ فعال کرنے کا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے صارفین کی نظروں پر کام دباؤ پڑے گا اور فون کی بیٹری بھی کام استعمال ہو گی۔

Share This Story !

اپنا تبصرہ بھیجیں